صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا}:
باب: آیت کی تفسیر ”پھر اگر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو“۔
حدیث نمبر: Q4607
تَيَمَّمُوا تَعَمَّدُوا آمِّينَ عَامِدِينَ أَمَّمْتُ وَتَيَمَّمْتُ وَاحِدٌ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَسْتُمْ وَتَمَسُّوهُنَّ وَاللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ وَالْإِفْضَاءُ النِّكَاحُ.
«تيمموا» یعنی «تعمدوا» اسی لیے آتا ہے یعنی قصد کرو۔ «آمين» یعنی «عامدين» قصد کرنے والے۔ «أممت» اور «وتيممت» ایک ہی معنی میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «لمستم وتمسوهن واللاتي دخلتم بهن» اور «الإفضاء» سب کے معنی عورت سے ہمبستری کرنے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4607]
حدیث نمبر: 4607
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، وَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْر، قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَإِذَا الْعِقْدُ تَحْتَهُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش تک پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کروانے کے لیے وہیں قیام کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا۔ وہاں کہیں پانی نہیں تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی پانی نہیں تھا۔ لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے، ملاحظہ نہیں فرماتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کر رکھا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں ٹھہرا لیا اور ہمیں بھی، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس پانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ (میرے یہاں) آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری ران پر رکھ کر سو گئے تھے اور کہنے لگے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب کو روک لیا، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر بہت خفا ہوئے اور جو اللہ کو منظور تھا مجھے کہا، سنا اور ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے۔ میں نے صرف اس خیال سے کوئی حرکت نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور صبح تک کہیں پانی کا نام و نشان نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو اسید بن حضیر نے کہا کہ آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4607]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب ہم مقامِ بیداء یا ذاتُ الجیش پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا۔ وہاں نہ تو پانی کا کوئی چشمہ تھا اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہی تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کی: ”آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کر رکھا ہے؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں ٹھہرا لیا ہے اور ہمیں بھی ٹھہرنے پر مجبور کر رکھا ہے، حالانکہ یہاں نہ تو پانی کا چشمہ ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے“، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر محوِ استراحت تھے۔ انہوں نے کہا: ”تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو یہاں روک رکھا ہے، حالانکہ یہاں کہیں پانی کا چشمہ نہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہی ہے“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر بہت خفا ہوئے اور جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا مجھے سخت سست کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے۔ میں نے اس خیال سے کوئی حرکت نہ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھے ہوئے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح بیدار ہوئے تو وہاں پانی وغیرہ کا کوئی نشان تک نہ تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیتِ تیمم نازل کی تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے آلِ ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت تو نہیں“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے سے مل گیا“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4607]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4608
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ، وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ، فَثَنَى رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا، أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ، فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَوْجَعَنِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ، وَحَضَرَتِ الصُّبْحُ، فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوجَدْ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ سورة المائدة آية 6 الْآيَةَ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَكَةٌ لَهُمْ.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میرا ہار مقام بیداء میں گم ہو گیا تھا۔ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور اتر گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ مار کر فرمایا کہ ایک ہار کے لیے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے خیال سے میں بےحس و حرکت بیٹھی رہی حالانکہ مجھے تکلیف ہوئی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور صبح کا وقت ہوا اور پانی کی تلاش ہوئی لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی وقت یہ آیت اتری «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة» الخ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آل ابی بکر! تمہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے باعث برکت بنایا ہے۔ یقیناً تم لوگوں کے لیے باعث برکت ہو۔ تمہارا ہار گم ہوا اللہ نے اس کی وجہ سے تیمم کی آیت نازل فرما دی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے آسانی اور برکت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4608]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے کہ مقام بیداء پر میرا ہار گم ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور نیچے اتر پڑے۔ پھر اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو گئے۔ اس دوران میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ (مکا) مار کر فرمایا: ”ایک ہار کی وجہ سے تم نے لوگوں کو یہاں روک رکھا ہے“ لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کی وجہ سے بےحس و حرکت بیٹھی رہی جبکہ مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پانی کی تلاش شروع ہوئی لیکن وہاں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ﴾ [سورة المائدة: 6] ۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے آل ابی بکر! تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو برکت عطا فرمائی ہے۔ یقینا تم لوگوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4608]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة