سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب الْحَائِضِ تَمْشُطُ زَوْجَهَا:
حیض والی عورتوں کا اپنے شوہر کی کنگھی کر نے کا بیان
حدیث نمبر: 1104
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں حالت حیض میں ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو دھو دیتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل جعفر بن الحارث الواسطي، [مكتبه الشامله نمبر: 1108] »
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 301] ، [مسلم 297] ، [ابن حبان 3668]
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 301] ، [مسلم 297] ، [ابن حبان 3668]
حدیث نمبر: 1105
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "لَقَدْ كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ عَاكِفٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں ہوتے اور میں حالت حیض میں، (پھر بھی) میں آپ کے سر مبارک کو دھو دیتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1109] »
یہ اثر صحیح ہے، اور (1102) میں تخریج گذر چکی ہے۔
یہ اثر صحیح ہے، اور (1102) میں تخریج گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ، قَالَ: أَرْسَلَ أَبُو ظَبْيَانَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ يَسْأَلُهُ عَنْ الْحَائِضِ تُوَضِّئُ الْمَرِيضَ؟، قَالَ: "نَعَمْ، وَتُسْنِدُهُ"، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ لِلْمُغِيرَةِ: سَمِعْتَهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَتُسْنِدُهُ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ.
شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ کو کہتے سنا کہ ابوظبیان نے امام ابراہیم رحمہ اللہ کے پاس قاصد بھیجا کہ حائضہ کے بارے میں دریافت کرے کہ وہ مریض کو وضو کرا سکتی ہے؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہاں، کہا: نماز میں اس کو سہارا بھی دے سکتی ہے؟ کہا: نہیں۔ شعبہ نے کہا: میں نے مغیرہ سے پوچھا: تم نے خود ابراہیم رحمہ اللہ سے سنا؟ کہا: نہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «وتسنده»: یعنی اس کو نماز میں سہارا دے سکتی ہے؟ (جس کا انہوں نے جواب دیا کہ نماز میں نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 1110] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 202/1] و [مصنف عبدالرزاق 1259]
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 202/1] و [مصنف عبدالرزاق 1259]
حدیث نمبر: 1107
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَخْبَرَنِي عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ".
قاسم سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مصلّٰی (جائے نماز) دے دو“، تو انہوں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (یعنی: حیض) تمہارے ہاتھ میں تھوڑے ہی ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1111] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 298] ، [أبوداؤد 261] ، [نسائي 272] ، [ترمذي 134] و [أبوعوانه 313/1]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 298] ، [أبوداؤد 261] ، [نسائي 272] ، [ترمذي 134] و [أبوعوانه 313/1]
حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ"أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ حَائِضٍ شَرِبَتْ مِنْ مَاءٍ، أَيُتَوَضَّأُ بِهِ؟ فَضَحِكَ، وَقَالَ: نَعَمْ".
امام حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: حائضہ عورت جو پانی پئے (پھر اس کے بچے ہوئے) سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ وہ ہنسے اور فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1112] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 34/1] و [مصنف عبدالرزاق 391، 393]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 34/1] و [مصنف عبدالرزاق 391، 393]
حدیث نمبر: 1109
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، قَالَ:"وَاكِلْهَا".
سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1113] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 342/4، 293/5] ، [ترمذي 133] ، [ابن ماجة 651] ، [سنن أبى داؤد 212 وغيرهم]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 342/4، 293/5] ، [ترمذي 133] ، [ابن ماجة 651] ، [سنن أبى داؤد 212 وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 1093 سے 1109)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: تمام علماء کا یہی قول ہے کہ حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ... الخ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: تمام علماء کا یہی قول ہے کہ حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ... الخ۔
حدیث نمبر: 1110
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ جَارِيَتَهُ أَنْ تُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ، فَتَقُولُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَيَقُولُ: "إِنَّ حِيضَتَكِ لَيْسَتْ فِي كَفِّكِ فَتُنَاوِلُهُ".
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی لونڈی سے کہتے کہ انہیں مسجد سے مصلّٰی اٹھا کر دے دے، وہ کہتی: میں حائضہ ہوں، وہ جواب دیتے: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تھوڑے ہی ہے، چنانچہ وہ مصلّٰی انہیں دے دیتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1114] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 360/2]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 360/2]
حدیث نمبر: 1111
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ بَعْضَ أَهْلِي لَحَائِضٌ، وَإِنَّا لَمُتَعَشُّونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ جَمِيعًا".
حرام بن حکیم سے مروی ہے کہ ان کے چچا (سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری کوئی بیوی حیض والی ہو گی اور ہم سب ان شاء الله ایک ساتھ شام کا کھانا کھائیں گے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1115] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ «مؤاكلة الحائض» سے متعلق حدیث (1109) میں گذری ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ «مؤاكلة الحائض» سے متعلق حدیث (1109) میں گذری ہے۔
حدیث نمبر: 1112
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ "لَا تَرَى بَأْسًا أَنْ تَمَسَّ الْحَائِضُ الْخُمْرَةَ".
قاسم سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ کے مصلّٰی چھونے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1116] »
یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقوف فعل ہے جو صحیح ہے۔ تفصیل و تخریج گذر چکی ہے۔
یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقوف فعل ہے جو صحیح ہے۔ تفصیل و تخریج گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1109 سے 1112)
ان تمام احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ جس عورت کو حیض آ رہا ہو اس کے ساتھ کھانا پینا، بیٹھنا اٹھنا، مباشرت کرنا اور جیسا کہ کہا گیا ما فوق الازار سب کچھ جائز ہے۔
ان تمام احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ جس عورت کو حیض آ رہا ہو اس کے ساتھ کھانا پینا، بیٹھنا اٹھنا، مباشرت کرنا اور جیسا کہ کہا گیا ما فوق الازار سب کچھ جائز ہے۔