🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. باب مَتَى يَقُومُ النَّاسُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ:
جب اقامت کہی جائے تو لوگ کب کھڑے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1295
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي".
عبداللہ بن ابی قتادہ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1296] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 637] ، [مسلم 604] ، [نسائي 789] ، [ابن حبان 1755]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي".
سیدنا ابوقتادة رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1297] »
یہ حدیث بھی صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 708] ، [مسلم 469]
وضاحت: (تشریح احادیث 1294 سے 1296)
امام اگر مسجد میں موجود نہ ہو تو جب تک اس کو آتے ہوئے لوگ دیکھ نہ لیں نماز کے لئے کھڑے نہ ہوں۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت تھی، مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلنے میں دیر ہو اور لوگ کھڑے کھڑے تھک جائیں۔
اس سلسلے میں علماء کے کئی اقوال ہیں، صحیح یہ ہے کہ امام مسجد میں موجود ہو تو اقامت شروع ہوتے ہی کھڑے ہو جائیں اور حی علی الصلاة يا قد قامت الصلاة کا انتظار نہ کریں، کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں کھڑے بھی ہوں تو اقامت شروع ہوتے ہی بیٹھ جاتے ہیں اور جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہتا ہے تب سب کھڑے ہوتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ احادیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
واللہ علم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں