صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ قَوْلِهِ: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ} الآيَةَ:
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے“ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: Q4628
يَلْبِسَكُمْ: يَخْلِطَكُمْ مِنَ الِالْتِبَاسِ، يَلْبِسُوا: يَخْلِطُوا، شِيَعًا: فِرَقًا.
«يلبسكم» کا معنی ملا دے خلط ملط کر دے۔ یہ «الالتباس» سے نکلا ہے۔ «شيعا» یعنی «فرقا» گروہ گروہ فرقے فرقے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4628]
حدیث نمبر: 4628
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، قَالَ: أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ، قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو من تحت أرجلكم» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4628]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”کہہ دیجیے: وہ قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ”یا اللہ! میں تیری ذات کے وسیلے سے پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ﴿أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ﴾ ”یا تمہارے نیچے سے عذاب آ جائے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ”اے اللہ! میں تیری ذات کے ذریعے سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ﴿أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ﴾ ”یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے باہم دست و گریبان کر دے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عذاب ہلکا اور آسان ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4628]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة