🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. باب التَّثَاؤُبِ في الصَّلاَةِ:
نماز میں جمائی لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَشُدَّ يَدَهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي عَلَى فِيهِ.
عبدالرحمٰن بن ابی سعید نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی منہ پر ہاتھ رکھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل نعيم بن حماد، [مكتبه الشامله نمبر: 1422] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2995] ، [أبوداؤد 5026، 5027] ، [أبويعلی 1162] ، [ابن حبان 2360]
وضاحت: (تشریح احادیث 1418 سے 1420)
اس روایت میں «فَلْيَشُدَّ» ہے بعض نسخے میں «فَلْيَسُدَّ» اور مسلم کی روایات میں «فَلْيُمْسِكْ» اور «فَلْيَكْظِمْ» کا لفظ ہے جس کے معنی روکنے، پی جانے کے ہیں، یعنی جہاں تک ہو سکے روکے کیونکہ یہ سستی و کاہلی او ثقل کی نشانی ہے، زیادہ مجبور ہو تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
بعض روایات میں تصریح ہے: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ.» یعنی جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے، اس لئے کہ اس فعل سے شیطان کو اندر گھسنے اور نماز میں وسوسہ ڈالنے اور بھلانے کا موقع مل جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل نعيم بن حماد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں