🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

112. باب الصَّلاَةِ في مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَمَعَاطِنِ الإِبِلِ:
اونٹ اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1429
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہو جائے اور تمہیں بکریوں اور اونٹ کے باڑے (ان کے بیٹھنے کی جگہ) کے علاوہ اور کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو اور اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1431] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 348، 349] ، [ابن ماجه 768] ، [ابن حبان 1700] ، [موارد الظمآن 336]
وضاحت: (تشریح حدیث 1428)
احکامِ شریعت حکمت و منفعت سے لبریز ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں جگہ نہ ملنے پر بکریوں کے باڑے میں نماز کی اجازت دی گئی اور اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، اور یہ اس لئے کہ بکریوں سے ضرر کا اندیشہ نہیں اس کے برعکس اونٹ اگر بھڑک جائے تو چوٹ کیا جان تک جانے کا اندیشہ ہے، اور قرآن پاک میں بھی اصول بیان کر دیا گیا: «﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195] » ”اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
“ قربان جائیں ایسی شریعت حقہ پر جس کا ہر امر اور ہر نہی حکمت سے پُر ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں