🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

144. باب في صَلاَةِ السُّنَّةِ:
نماز کی سنتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر سے پہلے دو رکعت اور بعد میں دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں اور نماز عشاء کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں ادا فرماتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1477] »
اس روایت کی یہ سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 937] ، [مسلم 882] ، [أبوداؤد 1252] ، [نسائي 872، 1426] ، [أبويعلی 5435] ، [ابن حبان 2454] ، [الحميدي 690]
وضاحت: (تشریح حدیث 1474)
ایک اور روایت میں فجر سے پہلے دو رکعت پڑھنا ثابت ہے اس طرح پنج وقتہ نماز میں سننِ راتبہ کی کل تعداد دس ہوئی۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1476
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا، غَيْرَ الْفَرِيضَةِ، إِلَّا لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ". قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ. وَقَالَ عَمْرٌو مِثْلَهُ. وَقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَهُ.
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: جو بھی مسلم بنده 12 رکعت سنت فرض نماز کے علاوہ پڑھے اس کے لئے جنت میں ایک گھر ہے، یا فرمایا: اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس لئے میں برابر ان سنتوں کو پڑھتی رہتی ہوں، عمرو بن اوس اور نعمان بن سالم نے بھی اسی کے مثل کہا یعنی جب سے یہ سنا ان سنتوں کو کبھی ترک نہیں کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1478] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 728] ، [أبوداؤد 1250] ، [ترمذي 415] ، [نسائي 1797] ، [ابن ماجه 1141] ، [أبويعلی 7124] ، [ابن حبان 2451، 2452]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور نماز فجر سے پہلے دو رکعت (سنت) کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1479] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1182] ، [أبوداؤد 1253] ، [نسائي 1757] ، [أحمد 63/6] ، [الطيالسي 522 وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 1475 سے 1477)
مذکورہ بالا احادیث سے سننِ راتبہ کی فضیلت معلوم ہوئی، تمام وارده احادیث کے پیشِ نظر یہ معلوم ہوا کہ دو رکعت فجر سے پہلے، چار رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، اور دو رکعت عشاء کے بعد، یہ کل 12 رکعت ہوئیں، اس کے علاوہ بھی کچھ سنتیں ہیں جو احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہیں، جیسے عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت اور مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت۔
سنن راتبہ کی فضیلت یہ ہے کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ جنت میں گھر بنائے گا۔
دوسرے یہ کہ اگر فرض نماز میں کوئی کمی رہ گئی تو الله تعالیٰ ان سے اس کمی کو پوری فرما دے گا، جیسا کہ حدیث: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ.» سے ثابت ہے۔
دیکھئے: حدیث نمبر (1393)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں