🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ قَوْلِهِ: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} مِنَ الرَّأْفَةِ:
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک تمہارے پاس ایک رسول آئے ہیں جو تمہاری ہی جنس میں سے ہیں، جو چیز تمہیں نقصان پہنچاتی ہے وہ انہیں بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری (بھلائی) کے انتہائی حریص ہیں اور ایمان والوں کے حق میں تو بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں“ «روف» ، «رأفة» سے نکلا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4679
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ مِمَّنْ يَكْتُبُ الْوَحْيَ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، إِلَّا أَنْ تَجْمَعُوهُ وَإِنِّي لَأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ، وَلَا نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالْأَكْتَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ، لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ سورة التوبة آية 128 إِلَى آخِرِهِمَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ: مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، وَقَالَ مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ، وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، وَقَالَ: مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عبیداللہ بن سباق نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے جو کاتب وحی تھے، بیان کیا کہ جب (11 ھ) میں یمامہ کی لڑائی میں (جو مسلیمہ کذاب سے ہوئی تھی) بہت سے صحابہ مارے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ (کفار کے ساتھ) لڑائیوں میں یونہی قرآن کے علماء اور قاری شہید ہوں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ضرور قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، ایسا کام میں کس طرح کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملہ پر بات کرتے رہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جوان اور سمجھدار ہو ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا بھی کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جابجا سے تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔ اللہ کی قسم! کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے کوئی پہاڑ اٹھا کے لے جانے کے لیے کہتے تو یہ میرے لیے اتنا بھاری نہیں تھا جتنا قرآن کی ترتیب کا حکم۔ میں نے عرض کیا آپ لوگ ایک ایسے کام کے کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔ پھر میں ان سے اس مسئلہ پر گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا۔ جس طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے (جن پر قرآن مجید لکھا ہوا تھا، اس دور کے رواج کے مطابق) قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے (جو قرآن کے حافظ تھے) حافظہ سے بھی مدد لی اور سورۃ التوبہ کی دو آیتیں خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے ملیں۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس مجھے نہیں ملی تھی۔ (وہ آیتیں یہ تھیں) «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم‏» آخر تک۔ پھر مصحف جس میں قرآن مجید جمع کیا گیا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، آپ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، پھر آپ کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی (ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا)۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عثمان بن عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، اور لیث نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا اس میں خزیمہ کے بدلے ابوخزیمہ انصاری ہے اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، اس روایت میں بھی ابوخزیمہ ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل کے ساتھ اس حدیث کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے والد ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اور ابوثابت محمد بن عبیداللہ مدنی نے، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا اس روایت میں شک کے ساتھ خزیمہ یا ابوخزیمہ مذکور ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4679]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ وحی لکھا کرتے تھے، انہوں نے فرمایا: جنگ یمامہ میں بہت سے صحابہ شہید ہو گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا۔ آپ کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (مجھ سے) فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اگر مختلف مقامات پر اسی طرح قراء صحابہ شہید ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت حصہ ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کو جمع کرنے کا کام ضرور کر دیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ایسا کام کیونکر کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملے میں بات کرتے رہے، آخرکار اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے، تاہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم جوان ہمت اور سمجھ دار ہو، ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھا کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جا بجا تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔ اللہ کی قسم! اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کوئی پہاڑ اٹھا لانے کو کہتے تو یہ میرے لیے اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن مجید کی جمع و ترتیب کا حکم مشکل تھا۔ میں نے عرض کی: آپ دونوں حضرات ایک ایسا کام کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے ہیں جسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔ پھر میں ان سے اس مسئلے کے متعلق بحث و تکرار کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا سینہ بھی کھول دیا جس طرح حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو شرح صدر فرمایا تھا، چنانچہ میں اٹھا اور کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے قرآن مجید جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے حافظے سے بھی مدد لی، حتی کہ سورہ توبہ کی دو آیات حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائیں، وہ ان کے علاوہ اور کسی کے پاس (لکھی ہوئی) نہ تھیں اور وہ یہ ہیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ * فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ﴾ [سورة التوبة: 128، 129] وہ اوراق جن میں قرآن جمع کیا گیا تھا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فوت کر لیا۔ پھر وہ ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔ عثمان بن عمر اور لیث نے یونس کے ذریعے سے ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت کرنے میں شعیب کی متابعت کی ہے۔ لیث نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن خالد نے، ابن شہاب سے خبر دی اور کہا: ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس وہ آیات تھیں۔ موسیٰ نے ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے خبر دی اور کہا کہ ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں۔ یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کرنے میں موسیٰ کی متابعت کی ہے۔ ابو ثابت نے کہا: ہمیں ابراہیم نے خبر دی اور کہا: وہ آیات خزیمہ یا ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4679]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں