🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. باب في الْغِيلَةِ:
دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2254
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَة، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ، وَالرُّومَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْغِيلَةُ: أَنْ يُجَامِعَهَا وَهِيَ تُرْضِعُ.
سیدہ جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے سے منع کر دوں، لیکن مجھے یاد آیا کہ روم و فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولادوں کو ضرر نہیں پہنچتا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «غيله» سے مراد یہ ہے کہ عورت بچے کو دودھ پلاتی ہو اور اس سے جماع کیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2254]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي وهو عند مالك في الرضاع، [مكتبه الشامله نمبر: 2263] »
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1442] ، [أبوداؤد 3882] ، [ترمذي 2076] ، [نسائي 3326] ، [ابن ماجه 2011] ، [ابن حبان 4196]
وضاحت: (تشریح حدیث 2253)
عربوں کا یہ خیال تھا کہ بچے کی ماں جب بچے کو دودھ پلاتی ہو تو اس سے صحبت نہیں کرنی چاہے، اس سے لڑکا ضعیف و نحیف ہو جاتا ہے۔
یہ صحیح نہیں ہے، البتہ اگر حالتِ رضاعت میں حمل ٹھہر جائے تو بچے کی دو سال کی رضاعت پوری نہیں ہوتی اس لئے بچہ پر ضرر پڑتا ہے، اور جیسا کہ معلوم و معروف ہے شیر خوار بچے کے لئے ماں کے دودھ سے زیادہ تقویت دینے والی اور نشو و نما میں اہم چیز کوئی نہیں۔
بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالتِ رضاعت میں دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سبحان اللہ! اسلامی شریعت میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کا حکم بیان نہ کر دیا گیا ہو۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں