🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. باب في الضَّالَّةِ:
گم شدہ چیز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنِ الْجَارُودِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ".
جارود نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: مسلمان کی گمشدہ چیز (کو لینا) آگ کی جلن ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2643] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 1539] ، [ابن حبان 4887] ، [موارد الظمآن 1170] ، [طبراني 265/2، 2109، 2116] ، [بيهقي 191/6] ، [ابن قانع فى معجم الصحابة 164] ، [عبدالرزاق 18603]
وضاحت: (تشریح حدیث 2636)
یعنی کوئی اگر کسی مسلمان کی گم شدہ چیز بھی لے لے تو وہ جہنم کی آگ لینے کے مرادف ہے۔
واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2638
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيِّ، عَنِ الْجَارُودِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، لَا تَقْرَبَنَّهَا". قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا؟. قَالَ: "أَنْشِدْهَا، وَلَا تَكْتُمْ، وَلَا تُغَيِّبْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا، فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
جارود نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم کی گم شدہ چیز آگ کی جلن ہے، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی جلن ہے، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی جلن ہے، تم اس کے قریب نہ جانا۔ جارود نے کہا: ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں گری پڑی چیز ملے تو؟ فرمایا: اس کا اعلان کرو، چھپاؤ نہیں، نہ اسے غائب کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کر دو ورنہ پھر یہ اللہ کا مال ہے جس کو وہ چاہتا ہے دیدیتا ہے۔ (یعنی کوئی لینے نہ آئے تو تم لے سکتے ہو اللہ نے تمہیں دیا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2638]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو العلاء هو: يزيد بن عبد الله بن الشخير، [مكتبه الشامله نمبر: 2644] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [طبراني 2119-2122] ، [مجمع الزوائد 6928-6929]
وضاحت: (تشریح حدیث 2637)
اس حدیث میں بھی مسلمان کی گم شدہ کوئی بھی چیز لینے کی ممانعت ثابت ہوئی، اور گری پڑی چیز کو بھی اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے اٹھا سکتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں