🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا:
دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تم دو آدمی تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر کانا پھوسی نہ کرو کیونکہ اس سے اس (تیسرے) کو رنج ہوگا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2699] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6290] ، [مسلم 2184/38] ، [أبوداؤد 4852] ، [ترمذي 2825] ، [ابن ماجه 3775] ، [أبويعلی 5114] ، [ابن حبان 583]
وضاحت: (تشریح حدیث 2691)
تیسرے کی موجودگی میں دو آدمیوں کا الگ ایک دوسرے سے سرگوشی کرنا منع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے آدمی کو وہم ہو سکتا ہے کہ اس کی برائی، یا اس کے خلاف تو کوئی پلان یا سازش نہیں کر رہے ہیں، یا اس کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا، اور اس سے اس کے دل کو ٹھیس لگے گی۔
ہاں تین سے زیادہ آدمی ہوں تو چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں حرج نہیں، لیکن انسان کو مظان الریب والشک سے بچنا چاہیے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ﴾ [المجادلة: 10] » ”کانا پھوسی شیطانی کام ہے۔
“

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں