صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ:
باب: تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي؟ فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ؟ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا الصَّعِيدَ، قُلْتُ: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِذَا، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا، فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِها ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ أَوْ ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ: وَزَادَ يَعْلَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہمیں ابومعاویہ نے خبر دی اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے (اور نماز موقوف رکھے) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر سورۃ المائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہو گا ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلد ہی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے۔ اعمش نے کہا میں نے شقیق سے کہا تو تم نے جنبی کے لیے تیمم اس لیے برا جانا۔ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو عمار کا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا۔ سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی، لیکن پانی نہ ملا۔ اس لیے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ لیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے صرف اتنا اتنا کرنا کافی تھا۔ اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ عبداللہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ عمر کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی۔ اور یعلیٰ ابن عبید نے اعمش کے واسطہ سے شقیق سے روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ اور ابوموسیٰ کی خدمت میں تھا اور ابوموسیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ نے عمر سے عمار کا یہ قول نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا۔ پس مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا۔ پھر میں رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال کے متعلق ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں صرف اتنا ہی کافی تھا اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا ایک ہی مرتبہ مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّيَمُّمِ/حدیث: 347]
حضرت شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر کسی کو جنابت لاحق ہو جائے اور اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم نہ کر لے اور نماز پڑھے؟ (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، خواہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔) حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ سورہ مائدہ کی اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کے متعلق کیا کہیں گے: ”اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس بارے میں لوگوں کو رخصت دی جائے تو اندیشہ ہے کہ لوگوں کو جب پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ پاک مٹی سے تیمم کر لیا کریں گے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اس رخصت کو اس مصلحت کے پیش نظر ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام پر بھیجا تھا۔ مجھے وہاں جنابت لاحق ہو گئی اور پانی نہ مل سکا تو میں نے چوپائے کی طرح زمین پر لوٹ پوٹ لگائی (اور نماز پڑھ لی تھی)۔ پھر جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں صرف اس طرح کر لینا کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار زمین پر اپنا ہاتھ مارا، اس سے غبار کو جھاڑا، اس کے بعد اپنے ہاتھ کی پشت کا بائیں ہاتھ سے مسح فرمایا، یا اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کا اپنے ہاتھ سے مسح فرمایا، پھر ان سے اپنے چہرے پر مسح کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قول سے مطمئن نہیں ہوئے تھے؟ حضرت یعلی بن عبید رحمہ اللہ نے حضرت اعمش رحمہ اللہ سے، انہوں نے شقیق رحمہ اللہ سے قدرے اضافے کے ساتھ روایت کو بیان کیا ہے۔ شقیق رحمہ اللہ نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو کہیں باہر بھیجا تھا۔ اس دوران میں مجھے جنابت لاحق ہو گئی تو میں نے مٹی میں لوٹ لگائی۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صورت حال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں صرف اس طرح کر لینا کافی تھا۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ اور ہاتھوں کا ایک مرتبہ مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّيَمُّمِ/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة