🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. باب في الْمُزَاحِ:
مذاق کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2736
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَسُوقُ بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات (کی سواری) کو لے کر چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجثہ! آبگینوں (شیشوں) کو آہستہ لے کر چلو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده لا خطم له ولا زمام ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2743] »
اس سند کی کوئی حیثیت نہیں ہے، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6149] ، [مسلم 2323] ، [أبويعلی 2809] ، [ابن حبان 5800] ، [الحميدي 1243]
وضاحت: (تشریح حدیث 2735)
قواریر شیشے یا شیشے کی بوتل کو کہتے ہیں۔
اس سے مراد عورتیں (امہات المومنین) تھیں جو فی الواقع شیشے کی طرح نازک ہوتی ہیں۔
انجشہ نامی غلام اونٹوں کا چلانے والا بڑا خوش آواز تھا، اور اس کے گانے سے اونٹ مست ہو کر خوب بھاگ رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈر ہوا کہ کہیں عورتیں گرنہ جائیں، اس لئے فرمایا: ”آہستہ لے چل۔
“ اس میں مزاح یا مذاق کا پہلو اس طرح ہے کہ عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی اور انہیں شیشے کی طرح نازک قرار دیا۔
یہ تشبیہ بہت عمدہ تھی۔
عورتیں اسی طرح نازک ہوتی ہیں۔
صنفِ نازک پر یہ رحمۃ للعالمین کا احسانِ عظیم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کمزوری و نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس دلایا۔
(راز رحمہ اللہ)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده لا خطم له ولا زمام ولكن الحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں