سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب مَا يَكْفِي مِنَ الدُّنْيَا:
دنیا کی کیا چیز کافی ہے؟
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ".
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو دنیا میں خادم اور سواری کافی ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح عبد الله بن مولة بينا أنه ثقة، [مكتبه الشامله نمبر: 2760] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 360/5] ، [أبويعلی 2478] ، [ابن حبان 668]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 360/5] ، [أبويعلی 2478] ، [ابن حبان 668]
وضاحت: (تشریح حدیث 2752)
یعنی دنیا کا متاع ایک خادم اور سواری ہو تو بس کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے انسان کو پریشان نہ ہونا چاہیے۔
[ترمذي شريف 1781] میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تمہارے لئے مسافر کے زادِ راہ کے برابر متاع کافی ہے ..... إلخ۔
یعنی دنیا کا متاع ایک خادم اور سواری ہو تو بس کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے انسان کو پریشان نہ ہونا چاہیے۔
[ترمذي شريف 1781] میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تمہارے لئے مسافر کے زادِ راہ کے برابر متاع کافی ہے ..... إلخ۔