🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

98. باب: «لَمَوْضِعُ سَوْطٍ في الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» :
جنت میں تمہارے کوڑے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2855
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185" الْآيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں تم سے کسی کے کوڑے کی جگہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: « ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ . . . . . . .﴾ » (آل عمران: 185/3) ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے پورے پورے اجر دیئے جاؤگے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے، اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیاوی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2862] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2796] ، [ترمذي 3013] ، [ابن حبان 7417] ، [أبويعلي 6316، 7514]
وضاحت: (تشریح احادیث 2853 سے 2855)
اس حدیث میں جنّت کی قدر و قیمت بیان کی گئی ہے، اور آیتِ شریفہ میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، دوسرے یہ کہ دنیا میں جس نے بھی اچھا برا جو کچھ کیا ہوگا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا سے بہت بڑا اور تصور سے بہت زیادہ ہوگا، تیسرے کامیابی کا معیار اس میں بتلایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کر لیا، جس کے نتیجے میں وہ جہنم سے دور اور جنّت میں داخل کر دیا گیا، چوتھے یہ کہ دنیا کی زندگی سامانِ فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا وہ خوش نصیب اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام و نامراد ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں