علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب: لموضع سوط فى الجنة خير من الدنيا وما فيها :
جنت میں تمہارے کوڑے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 2855
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185" الْآيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں تم سے کسی کے کوڑے کی جگہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: « ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ . . . . . . .﴾ » (آل عمران: 185/3) ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے پورے پورے اجر دیئے جاؤگے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے، اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیاوی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2862] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2796] ، [ترمذي 3013] ، [ابن حبان 7417] ، [أبويعلي 6316، 7514]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2796] ، [ترمذي 3013] ، [ابن حبان 7417] ، [أبويعلي 6316، 7514]
وضاحت: (تشریح احادیث 2853 سے 2855)
اس حدیث میں جنّت کی قدر و قیمت بیان کی گئی ہے، اور آیتِ شریفہ میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، دوسرے یہ کہ دنیا میں جس نے بھی اچھا برا جو کچھ کیا ہوگا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا سے بہت بڑا اور تصور سے بہت زیادہ ہوگا، تیسرے کامیابی کا معیار اس میں بتلایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کر لیا، جس کے نتیجے میں وہ جہنم سے دور اور جنّت میں داخل کر دیا گیا، چوتھے یہ کہ دنیا کی زندگی سامانِ فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا وہ خوش نصیب اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام و نامراد ہے۔
اس حدیث میں جنّت کی قدر و قیمت بیان کی گئی ہے، اور آیتِ شریفہ میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، دوسرے یہ کہ دنیا میں جس نے بھی اچھا برا جو کچھ کیا ہوگا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو دنیا سے بہت بڑا اور تصور سے بہت زیادہ ہوگا، تیسرے کامیابی کا معیار اس میں بتلایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کر لیا، جس کے نتیجے میں وہ جہنم سے دور اور جنّت میں داخل کر دیا گیا، چوتھے یہ کہ دنیا کی زندگی سامانِ فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا وہ خوش نصیب اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام و نامراد ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن عمرو الليثي | ثقة متقن |
Sunan Darmi Hadith 2855 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي