سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب الْوَلاَءِ:
ولاء کا بیان
حدیث نمبر: 3049
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُدْلِجٍ: أَنَّهُ مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوَالِيَهُ، فَأَعْطَى عَلِيٌّ ابْنَتَهُ النِّصْفَ وَمَوَالِيَهُ النِّصْفَ".
حکم بن عتیبہ سے مروی ہے: عبدالرحمٰن بن مدلج کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنی بیٹی اور مالکان کو چھوڑ گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیٹی کو نصف دیا اور مالکان میں باقی نصف تقسیم کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3059] »
اس اثر کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن بیہقی میں صحیح سند سے موجود ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 402/4] ، [البيهقي 241/6]
اس اثر کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن بیہقی میں صحیح سند سے موجود ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 402/4] ، [البيهقي 241/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3047 سے 3049)
اس اثر سے ثابت ہوا کہ مالک ایک ہو یا کئی ان کو بیٹی کو دینے کے بعد باقی نصف ہی ملے گا زیادہ نہیں۔
اس اثر سے ثابت ہوا کہ مالک ایک ہو یا کئی ان کو بیٹی کو دینے کے بعد باقی نصف ہی ملے گا زیادہ نہیں۔
حدیث نمبر: 3050
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ الشَّمُّوسِ:"أَنَّ أَبَاهَا مَاتَ، فَجَعَلَ عَلِيٌّ لَهَا النِّصْفَ وَلِمَوَالِيهِ النِّصْفَ".
الشموس سے مروی ہے کہ ان کے والد انتقال کر گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو نصف حصہ دیا اور مالکان کو بھی نصف دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الشموس مجهولة وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3060] »
اس اثر کی سند میں الشموس مجہولہ ہے، باقی رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11187]
اس اثر کی سند میں الشموس مجہولہ ہے، باقی رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11187]
حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ جَهْمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُ"سُئِلَ عَنْ أُخْتَيْنِ اشْتَرَتْ إِحْدَاهُمَا أَبَاهَا فَأَعْتَقَتْهُ، ثُمَّ مَاتَ، قَالَ لَهُمَا: الثُّلُثَانِ فَرِيضَتُهُمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْمُعْتِقَةِ دُونَ الْأُخْرَى".
جہم بن دینار نے روایت کیا ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: دو بہنیں ہیں ان میں سے ایک نے اپنے والد کو خریدا اور آزاد کر دیا پھر ان (والد) کا انتقال ہو گیا، تو ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: دونوں بہنوں کے لئے دو ثلث جیسا کہ قرآن پاک میں حصہ مقرر ہے: «فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ . . . . . .» [النساء: 176/4] باقی جو بچا وہ صرف آزاد کرنے والی بیٹی کے لئے ہو گا۔ یعنی دوسری بہن کے لئے باقی حصہ ثلث میں سے کچھ نہ ہو گا اور پورا ثلث معتقہ لے لے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3051]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3061] »
اشعث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11560] ، [عبدالرزاق 16215، 16270]
اشعث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11560] ، [عبدالرزاق 16215، 16270]
حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"فِي امْرَأَةٍ أَعْتَقَتْ أَبَاهَا، فَمَاتَ الْأَبُ وَتَرَكَ أَرْبَعَ بَنَاتٍ هِيَ إِحْدَاهُنَّ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ مِنَّةٌ، لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، وَهِيَ مَعَهُنَّ".
اشعث سے مروی ہے شعبی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ عورت جس نے اپنے باپ کو آزاد کرایا پھر باپ کا انتقال ہو گیا اور اس نے چار بیٹیاں چھوڑیں جن میں سے ایک آزاد کرانے والی تھی، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: آزاد کرانے والی کا کوئی احسان نہیں، چاروں بہنوں میں دو ثلث ہی تقسیم کیا جائے گا اور وہ معتقہ بھی ان میں شامل ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3052]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3062] »
اشعث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے اور یہ دیگر اسلاف کے فیصلہ کے خلاف ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16213]
اشعث کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے اور یہ دیگر اسلاف کے فیصلہ کے خلاف ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16213]