سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب فَضْلِ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ:
قرآن پاک کی کوئی دس آیات پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3474
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ. ح وَحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص نے کسی رات میں دس آیات پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو موقوف على تميم الداري، [مكتبه الشامله نمبر: 3485] »
اس روایت کی سند ضعیف اور موقوف علی سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ہے۔ آگے اس طرح کے اور آثار بھی آ رہے ہیں۔
اس روایت کی سند ضعیف اور موقوف علی سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ہے۔ آگے اس طرح کے اور آثار بھی آ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 3475
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ بِعَشْرِ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْمُصَلِّينَ".
سیدنا تمیم داری اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: جس شخص نے کسی رات (قرآن کی) دس آیات پڑھیں تو (اس کا نام) نمازیوں میں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لإرساله والقاسم أبو عبد الرحمن لم يدرك تميما، [مكتبه الشامله نمبر: 3486] »
اس روایت میں ارسال بھی ہے اور القاسم ابوعبدالرحمٰن کا لقا سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس لئے یہ اثر ضعیف ہے۔ اس کو بیہقی نے [شعب الإيمان 2196] میں اور سعید بن منصور نے [سنن 116/1، 23] میں ذکر کیا ہے۔
اس روایت میں ارسال بھی ہے اور القاسم ابوعبدالرحمٰن کا لقا سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس لئے یہ اثر ضعیف ہے۔ اس کو بیہقی نے [شعب الإيمان 2196] میں اور سعید بن منصور نے [سنن 116/1، 23] میں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3476
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِعَشْرِ آيَاتٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے رات میں دس آیات پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3487] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 508/10، 10137] و [الحاكم فى المستدرك 2042، واسناده منقطع] اور اس کا شاہد [صحيح ابن خزيمه 1143] ، [مستدرك الحاكم 2041] ، [عمل اليوم و الليلة لابن السني 702] و [صحيح ابن حبان 2572] میں موجود ہے۔
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 508/10، 10137] و [الحاكم فى المستدرك 2042، واسناده منقطع] اور اس کا شاہد [صحيح ابن خزيمه 1143] ، [مستدرك الحاكم 2041] ، [عمل اليوم و الليلة لابن السني 702] و [صحيح ابن حبان 2572] میں موجود ہے۔
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِعَشْرِ آيَاتٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو رات میں دس آیات کی تلاوت کرے وہ غافلین میں نہ لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3477]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3488] »
مغیرہ بن عبداللہ الجدلی کا ترجمہ کہیں مذکور نہیں ہے، باقی رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 63] و [ابن منصور 29/1، 24] ۔ نیز آگے رقم (3489) پر یہ روایت اور مفصل آ رہی ہے۔
مغیرہ بن عبداللہ الجدلی کا ترجمہ کہیں مذکور نہیں ہے، باقی رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 63] و [ابن منصور 29/1، 24] ۔ نیز آگے رقم (3489) پر یہ روایت اور مفصل آ رہی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3473 سے 3477)
اس باب کی تمام روایات، آثار و اقوال صحابہ کرام کے ہیں، احتمال ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔
واللہ اعلم۔
اس باب کی تمام روایات، آثار و اقوال صحابہ کرام کے ہیں، احتمال ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔
واللہ اعلم۔