مختصر حصن المسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
32. أٔذكار النوم
سوتے وقت کی دعائیں
حدیث نمبر: 119
اللَٰهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ، وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَالْمَلَائِكَةُ اَشْهَدُ اَنَ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِىْ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ، وَشِرْكِهِ، وَأَنْ اَقْتَرِفَ سُوْءًا عَلَى أَنْفُسِىْ أَوْ اَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
”اے اللہ! غیب اور حاضر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور مالک میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔“ [اسناده ضعيف، سنن ابي داؤد: 5083]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 119]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 119]
حدیث نمبر: 120
يقرأ (ألم * تنزيل) السجدة،
و (تبارك الذي بيده الملك)
سورۃ السجدۃ اور سورۃ الملک پڑھے۔ [ضعيف، سنن ترمذي: 3404]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 120]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 120]
حدیث نمبر: 121
اللَٰهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَا وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
”اے اللہ! میں نے اپنی جان کو تیرا فرمانبردار بنا لیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر لیا، اپنی کمر تیرے لئے جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، نہ تجھ سے بھاگ کر جانے کی کوئی پناہ ہے نہ راہ نجات ہے مگر تیری طرف ہی، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص یہ کلمات پڑھنے کے بعد فوت ہو گیا تو وہ فطرت پر فوت ہو گا۔“ [صحيح بخاري: 6313، صحيح مسلم: 2710]
اور یہ لفظ بخاری کے ہیں۔
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 121]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص یہ کلمات پڑھنے کے بعد فوت ہو گیا تو وہ فطرت پر فوت ہو گا۔“ [صحيح بخاري: 6313، صحيح مسلم: 2710]
اور یہ لفظ بخاری کے ہیں۔
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 121]