مختصر حصن المسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
110. إفشاء السلام
سلام عام کرنا
حدیث نمبر: 235
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: (لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلاَ أَدُلُّكُم عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُم، أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ تم مؤمن بن جاؤ، اور تم مؤمن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم وہ کرو تو باہم محبت کرنے لگو آپس میں سلام کو عام کرو۔“ [صحيح مسلم: 54]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 235]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 235]
حدیث نمبر: 236
ثَلاَثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ: الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلاَمِ لِلْعَالَمِ، وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الإِقْتَارِ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تین چیزیں ایسی ہیں جس نے انہیں جمع کر لیا اس نے ایمان حاصل کر لیا، خود سے انصاف کرنا، تمام لوگوں کے لئے سلام عام کرنا، اور تنگدستی میں خرچ کرنا۔ [صحيح بخاري تعليقاً قبل الحديث: 28]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 236]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 236]
حدیث نمبر: 237
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أيُّ الْإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ: (تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام میں کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھانا کھلا، اور ہر جاننے والے اور ہر اجنبی کو سلام کر۔“ [صحيح بخاري: 2812، صحيح مسلم: 39]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 237]
[مختصر حصن المسلم/اَبْواب/حدیث: 237]