🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ} أَلِنْ جَانِبَكَ:
باب: آیت کی تفسیر «واخفض جناحك» یعنی اپنا بازو نرم رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4770
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَجَعَلَ يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ، لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ، أَرْسَلَ رَسُولًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ، فَقَالَ:"أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا، فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ {1} مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ {2} سورة المسد آية 1-2".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» اور آپ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ڈراتے رہئیے نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارنے لگے۔ اے بنی فہر! اور اے بنی عدی! اور قریش کے دوسرے خاندان والو! اس آواز پر سب جمع ہو گئے اگر کوئی کسی وجہ سے نہ آ سکا تو اس نے اپنا کوئی چودھری بھیج دیا، تاکہ معلوم ہو کہ کیا بات ہے۔ ابولہب قریش کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مجمع میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم سے کہوں کہ وادی میں (پہاڑی کے پیچھے) ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ سب نے کہا کہ ہاں، ہم آپ کی تصدیق کریں گے ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سنو، میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو بالکل سامنے ہے۔ اس پر ابولہب بولا، تجھ پر سارے دن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا۔ اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی «تبت يدا أبي لهب وتب * ما أغنى عنه ماله وما كسب‏» ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ہی اس کے آڑے آئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4770]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] اپنے قریب ترین رشتے داروں کو ڈرائیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور آواز دینے لگے: اے بنو فہر! اے بنو عدی! اور دیگر قبائل قریش کو پکارنے لگے حتیٰ کہ وہ سب جمع ہو گئے۔ اگر کوئی خود نہیں آ سکتا تھا تو اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ وہ معلوم کرے کہ کیا بات ہے؟ ابولہب خود آیا اور قریش کے دوسرے لوگ بھی آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں خبردار کروں کہ اس گھاٹی میں ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ پایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ» پھر سنو! میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے ہے۔ یہ سن کر ابولہب بولا: «تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ» تجھ پر سارا دن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ * مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ [سورة المسد: 1-2] ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو جائیں اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کا مال اس کے کام نہ آیا اور نہ اس کی کمائی ہی نے اسے کوئی فائدہ دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4771
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ، بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا". تَابَعَهُ أَصْبَغُ،عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» اور اپنے خاندان کے قرابت داروں کو ڈرا نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر) آواز دی کہ اے جماعت قریش! یا اسی طرح کا اور کوئی کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچاؤ (اگر تم شرک و کفر سے باز نہ آئے تو) اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف! اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے بالکل کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کی بارگاہ میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اے صفیہ، رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے یہاں تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اے فاطمہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں، میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے، انہوں نے یونس سے اور انہوں نے ابن شہاب سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4771]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر فرمانے لگے: اے جماعتِ قریش! - یا اس جیسا کوئی اور کلمہ کہا - تم اپنی جانوں کو (اللہ کے عذاب سے) خرید لو، میں اللہ کی بارگاہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنو عبدِمناف! میں اللہ کے ہاں تمہیں کوئی نفع نہیں دوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ! میں اللہ کی بارگاہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اے صفیہ رضی اللہ عنہا! جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں، میں اللہ کے ہاں تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو، میں اللہ کے ہاں تمہیں کوئی نفع نہیں دوں گا۔ اصبغ نے ابنِ وہب سے، انہوں نے یونس سے اور انہوں نے ابنِ شہاب سے روایت کرتے ہوئے ابو الیمان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں