🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
معجم صغير للطبراني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

معجم صغير للطبراني ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1198)
حدیث نمبر لکھیں:
معجم صغير للطبراني ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (1197)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اللہ تعالیٰ کے انتہائی رحیم و شفیق ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" قُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ تَسْعَى إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ فَأَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟، قُلْنَا: لا وَاللَّهِ، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ بِوَلَدِهَا"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، إِلا أَبُو غَسَّانُ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَلا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے، قیدیوں میں ایک عورت دوڑ رہی تھی، جب بھی قیدیوں میں کوئی بچہ دیکھتی تو اس کو اٹھا کر اپنے پیٹ سے لگا لیتی اور دودھ دینے لگتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟ ہم نے کہا: اگر اس کے نہ پھینکنے پر طاقت رکھتی ہو تو نہیں پھینکے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچے کے ساتھ رحم کرنے سے زیادہ رحیم ہے۔ [معجم صغير للطبراني/کتاب الادب/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5999، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2754، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3011، والطبراني فى «الصغير» برقم: 272، والبزار فى «مسنده» برقم: 287»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں