🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

معجم صغير للطبراني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

معجم صغير للطبراني ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1198)
حدیث نمبر لکھیں:
معجم صغير للطبراني ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (1197)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

بخار جہنم کا حصہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَسَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَدِينِيُّ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلا كَانَ يُجَالِسُهُ فَقَالَ:" مَالِي فَقَدْتُ فُلانًا؟، قَالُوا: اغْتَبَطَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الاغْتِبَاطَ، فَقَالَ: قُومُوا حَتَّى نَعُودُهُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلامُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لا تَبْكِ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ، وَلا عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، إِلا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ. تَفَرَّدَ بِهِ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو گم پایا جس کے ساتھ آپ بیٹھا کرتے تھے، فرمانے لگے: مجھے فلاں آدمی نظر نہیں آیا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اس کو بخار ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو، ہم ان کی بیمار پرسی کرنے جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے جب اس کے پاس پہنچے تو لڑکا رونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: رو نہیں، جبریل نے مجھے بتایا ہے کہ بخار میری امت کے لیے جہنم کا حصہ ہے (جو انہیں دنیا میں ہی مل جاتا ہے)۔ [معجم صغير للطبراني/کِتَابُ الْمَرْضَیٰ/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3318، والطبراني فى «الصغير» برقم: 314
قال الهيثمي: فيه عمر بن راشد ضعفه أحمد وغيره ووثقه العجلي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 306)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں