🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن عمر سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر:26
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ الْعِجْلِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَدْنُو الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذْجٌ، قَالَ أَبُو النَّصْرِ: قَالَ قَتَادَةُ: الْبَذْجُ: السَّخْلَةُ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، يَعْنِي سِتْرَهُ، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، رَبِّ أَعْرِفُ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، فَيَقُولُ: أَنَا سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، قَالَ: وَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ، وَالْمُنَافِقُونَ، فَيُنَادِيهِمْ عَلَى رُءُوسِ الأَشْهَادِ: هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ، قَالَ قَتَادَةُ: فَلَمْ يُخْزَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ يَخْفَى خِزْيُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْخَلائِقِ".
صفوان بن محرز کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ انہیں ایک آدمی ملا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی کیفیت سے متعلق کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: قیامت کے دن مومن اپنے رب کے قریب ہوگا، گویا وہ بھیڑ یا بکری کا بچہ ہے اور وہ اس پر پردہ ڈال دیں گے اور اس سے پوچھیں گے۔ کیا تو جانتا ہے؟ کیا تو جانتا ہے؟ اور وہ کہے گا، اے میرے رب! میں جانتا ہوں، اے میرے رب! میں جانتا ہوں۔ وہ پھر پوچھیں گے، کیا تم جانتے ہو؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں جانتا ہوں۔ وہ پھر پوچھیں گے کیا تم جانتے ہو؟ وہ کہے گا اے میرے رب میں جانتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں نے دنیا میں اس پر تیری پردہ پوشی کی اور آج میں اس کو تجھے معاف کرتا ہوں۔ پھر اسے نیکیوں کا صحیفہ عطا کریں گے۔ اور کفار و منافقین کو تمام لوگوں کے روبرو آواز دی جائے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کو جھٹلایا، خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس دن کسی ایسے شخص کو رسوا نہیں کیا جائے گا جس نے مخلوق میں سے کسی سے اپنی رسوائی کو چھپایا ہوگا۔ [مسند عبدالله بن عمر/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري: التفسير: باب قوله ’’وبقول الاشهاد هٰولاء الذين كذبوا: رقم الحديث: 4685، صحيح مسلم: التوبة: باب فى سعة رحمة اللّٰه تعالىٰ على المؤمنين … الخ: رقم الحديث: 2768»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں