🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر: 26
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھین کر قبض نہیں کرتا، لیکن وہ علماء کو قبض کر کے علم قبض کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوال پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، وہ گمراہ ہوں گے اور گمراہ کریں گے۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 100، 7307، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2673، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4571، 6719، 6723، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5876، 5877، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2652، والدارمي فى «مسنده» برقم: 245، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 52، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20411، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6622، والحميدي فى «مسنده» برقم: 592، والطبراني فى «الكبير» برقم: 14210، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 55، 988، 2301، 3222
صحیح بخاري: 1/140، صحیح مسلم: 16/222، مسند طیالسي:، مسند احمد (الفتح الرباني): 1/39، الزهد، ابن مبارك: 281، طبراني صغیر: 1/165، مسند قضاعي، (الباب شرح الشهاب(: 197، مشکل الآثار، طحاوي: 1/127، تاریخ بغداد: 3/74، 5/460، 8/368، 10/375، 11/241، حلیة الأولیاء، ابو نعیم: 2/181، 10/25۔»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں