🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر: 241
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
أنا أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَرَادَ قَرَظَةُ أَنْ يَأْتِيَ الْعِرَاقَ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، فَخَرَجَ مَعَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ لِمَ خَرَجْتُ مَعَكُمْ؟ قَالُوا: وُدًّا لَنَا وَحَقًّا، قَالَ: لَكُمْ حَقًّا وَلَكِنِّي جِئْتُ فِي كَلِمَةٍ: " أَقِلُّوا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ فِيهِ"، قَالَ: فَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَوْلِ عُمَرَ.
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قرظہ نے بنو عبد الاشہل کے کچھ لوگوں کے ساتھ عراق آنے کا ارادہ کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ نکلے اور پانی منگوایا، وضو کیا اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیوں نکلا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہماری محبت اور ہمارے حق کی وجہ سے۔ فرمایا: بے شک تمہارا حق ہے، لیکن میں ایک بات کہنے آیا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کم حدیثیں بیان کرنا اور میں اس (بات کی پابندی) میں تمہارا شریک ہوں۔ (شعبی) نے کہا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجة: 1655، سنن دارمی،ا لمقدمة: 1/73، رقم: 285۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں