🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر: 254
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 254
أنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلا لا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، وَلا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلا بِتَقْوَى اللَّهِ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ".
ابونضرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس نے حدیث بیان کی جو منیٰ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں حاضر ہوا تھا، اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام تشریق کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! بے شک تمہارا رب ایک اور بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ سنو! کسی عربی کی کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کی، کسی عربی پر اور نہ کسی سیاہ کی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کی سیاہ پر، سوائے اللہ کے تقوے کے، دیکھو! کیا میں نے پہنچا دیا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لازم ہے جو موجود ہے اسے پہنچا دے جو غائب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دن کون سا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہر کون سا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال (راوی نے کہا کہ) اور میرا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے قابل احترام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کا احترام ہے۔ سنو! کیا میں نے پہنچا دیا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو لازم ہے کہ جو موجود ہے، اسے پہنچا دے جو حاضر نہیں ہے۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 254]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 23489۔ شیخ شعیب نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں