مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث نمبر: 257
حدیث نمبر: 257
أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ فَتَعْرِفُونَ حَقَّهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ نَجَا، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ"، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ:" لا، مَا صَلَّوْا".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے اوپر ایسے حکمران ہوں گے، جو اپنا حق پہچانیں گے اور (تمہارے حق کا) انکار کریں گے۔ جس نے انکار کیا تو یقیناً وہ نجات پا گیا اور جس نے ناپسند کیا یقیناً وہ سلامت رہا لیکن جو راضی ہوا اور تابع داری کی۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ان کو قتل نہ کریں؟ فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1854، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4760، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2265، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6599، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27171،والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1700، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6980، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20681، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38451، والطبراني فى «الكبير» برقم: 760، 761، 762، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4745
صحیح مسلم، الإمارة: 12/243، رقم: 63، 64۔»
صحیح مسلم، الإمارة: 12/243، رقم: 63، 64۔»
الحكم على الحديث: صحیح