🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر: 276
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 276
أنا شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ، يَقُولُ: مَا بِي بَأْسٌ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لأَدْخُلَنَّ بَيْتِي، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ لأَقُولَنَّ أَبُوءُ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ".
ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس چارپائی والے کو سنا، وہ کہہ رہا تھا، مجھے کوئی حرج نہیں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، البتہ اگر تم لڑو گے تو میں ضرور اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور البتہ اگر مجھ پر داخل ہوا گیا تو میں ضرور کہوں گا کہ آؤ اور لوٹ میرے گناہ کے ساتھ اور اپنے گناہ کے ساتھ۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «مسند أحمد: 23307، مجمع الزوائد،ہیثمی: 7/301۔ علامہ ہیثمی اور شیخ شعیب نے کہا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے ایک کے کہ وہ راوی مبہم ہے۔»

الحكم على الحديث: مبہم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں