🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. سورة {الْحَاقَّةِ}:
باب: سورۃ الحاقہ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4920-3
قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ: يُرِيدُ فِيهَا الرِّضَا، الْقَاضِيَةَ: الْمَوْتَةَ الْأُولَى الَّتِي مُتُّهَا لَمْ أُحْيَ بَعْدَهَا، مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ: أَحَدٌ يَكُونُ لِلْجَمْعِ وَلِلْوَاحِدِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْوَتِينَ: نِيَاطُ الْقَلْبِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَغَى: كَثُرَ، وَيُقَالُ: بِالطَّاغِيَةِ: بِطُغْيَانِهِمْ، وَيُقَالُ: طَغَتْ عَلَى الْخَزَّانِ كَمَا طَغَى الْمَاءُ عَلَى قَوْمِ نُوحٍ.
‏‏‏‏ «عيشة راضية‏ مرضية‏»، «مرضية‏» کے معنی میں ہے یعنی پسندیدہ عیش۔ «القاضية‏» پہلی موت یعنی کاش پہلی موت جو آئی تھی اس کے بعد میں مرا ہی رہتا پھر زندہ نہ ہوتا۔ «من أحد عنه حاجزين‏ أحد» کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر آتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «وتين‏» سے مراد جان کی رگ جس کے کٹنے سے آدمی مر جاتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «طغى‏ الماء» یعنی پانی بہت چڑھ گیا۔ «بالطاغية‏» اپنی شرارت کی وجہ سے بعضوں نے کہا «طاغيه» سے آندھی مراد ہے اس نے اتنا زور کیا کہ فرشتوں کے اختیار سے باہر ہو گئی جیسے پانی نے نوح علیہ السلام کی قوم پر زور کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4920-3]