صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
293. باب ما يقول الرجل إذا زكي
حدیث نمبر: 589
589/761 عن عدي بن أرطاة قال: كان الرجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا زكي قال:" اللهم لا تؤاخذني بما يقولون، واغفر لي ما لا يعلمون" (1) .
عدی بن ارطاۃ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی آدمی کو پاک باز قرار دیا جاتا تو کہتا: اے اللہ! یہ لوگ جو (میرے بارے میں) کہتے ہیں اس کا مجھ سے مواخذہ نہ کرنا اور جو (میری کوتاہیاں یہ) نہیں جانتے اس پر مجھے مغفرت عطا کرنا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
حدیث نمبر: 590
590/762 عن أبي قلابة، أن أبا عبد الله قال لأبي مسعود- أو أبو مسعود قال لأبي عبد الله-: ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في:"زعم"، قال:"بئس مطية الرجل".
ابوقلابہ سے مروی ہے کہ ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا: یا ابومسعود نے ابوعبداللہ سے کہا: آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «زعم» کے بارے میں کیا سنا ہے۔ کہا: «زعم» کسی شخص کی بری سواری ہے (یعنی یہ جھوٹ ہے)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 591
591/763 قال أبو مسعود: وسمعته يول:"لعن المؤمن كقتله".
ابومسعود نے کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن پر لعنت کرنا ایسا ہی ہے جیسے اسے قتل کرنا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: (صحيح لغيره)