صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ قَوْلِهِ: {اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ}:
باب: آیت کی تفسیر ”آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا ہی مہربان ہے“۔
حدیث نمبر: 4956
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ، جَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ {1} خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ {2} اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ {3} الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ {4} سورة العلق آية 1-4".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور اللیث نے بیان کیا کہ ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے محمد نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء سچے خوابوں سے کی گئی اور کہا «اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم * الذي علم بالقلم» کہ ”آپ پڑھئے، اپنے پروردگار کے نام کی مدد سے جس نے سب کو پیدا کیا ہے، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، جس نے قلم کو ذریعہ تعلیم بنایا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4956]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا۔ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا: ” ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ [سورة العلق: 1-4] پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھیے، آپ کا رب بہت کریم ہے جس نے بذریعہ قلم تعلیم دی۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة