مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِفْتَاحُ الجَنَّةِ)
لا الہ الا اللہ جنت کی چابی
حدیث نمبر: 40
40 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"رَوَاهُ أَحْمَدُ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جنت کی چابی ہے۔“ اس حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (5/ 242 ح 22453)
٭ شھر بن حوشب: عن معاذ، منقطع .»
٭ شھر بن حوشب: عن معاذ، منقطع .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 41
41 - وَعَنْ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَشْعُرْ بِهِ، فَاشْتَكَى عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - ثُمَّ أَقْبَلَا حَتَّى سَلَّمَا عَلَيَّ جَمِيعًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا حَمَلَكَ أَنْ لَا تَرُدَّ عَلَى أَخِيكَ عُمَرَ سَلَامَهُ؟ قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى، وَاللَّهِ لَقَدْ فَعَلْتَ. قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ، قَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ. فَقُلْتُ أَجْلَ. قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: تَوَفَّى اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ. فَقُمْتُ إِلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا، فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ"رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی وفات پر غم زدہ ہو گئے، حتیٰ کہ قریب تھا کہ ان میں سے بعض وسوسوں کا شکار ہو جاتے، عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بھی انہی میں سے تھا، پس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس اثنا میں عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام کیا، لیکن (شدتِ غم کی وجہ سے) مجھے اس کا کوئی پتا نہیں چلا، پس عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی، پھر وہ دونوں آئے حتیٰ کہ ان دونوں نے ایک ساتھ مجھے سلام کیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے کس وجہ سے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہیں دیا؟ میں نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! آپ نے ایسا ہی کیا ہے، عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے آپ کے گزرنے کا پتا چلا نہ سلام کرنے کا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان نے سچ فرمایا، کسی اہم کام نے آپ کو اس سے غافل رکھا ہوگا؟ تو میں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا اہم کام ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی اس سے پہلے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس معاملے میں نجات پانے کے بارے میں دریافت کر لیتے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لیا تھا، میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، آپ ہی اس کے زیادہ حق دار تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس معاملے کا حل کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا، تو وہی اس کے لیے نجات ہے۔“ اس حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (1/ 6 ح 20)
٭ فيه رجل من الأنصار من أھل الفقه: لم أعرفه و لم يوثقه الزھري .»
٭ فيه رجل من الأنصار من أھل الفقه: لم أعرفه و لم يوثقه الزھري .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف