صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ الصَّمَدُ}:
باب: آیت «الله الصمد» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4975
وَالْعَرَبُ تُسَمِّي أَشْرَافَهَا الصَّمَدَ، قَالَ أَبُو وَائِلٍ: هُوَ السَّيِّدُ الَّذِي انْتَهَى سُودَدُهُ.
معنی اللہ بےنیاز ہے۔ عرب لوگ سردار اور شریف کو «صمد.» کہتے ہیں۔ ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا حد درجے سب سے بڑا سردار جو ہو اسے «صمد.» کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4975]
حدیث نمبر: 4975
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ، وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُؤًا أَحَدٌ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ {3} وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {4} سورة الإخلاص آية 3-4"، كُفُؤًا وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ (ابن آدم) کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اس کا گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں بےپرواہ ہوں، میرے ہاں نہ کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ «كفؤا» اور «كفيئا» اور «كفاء» ہم معنی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4975]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا، اس کا یہ کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، حالانکہ میں بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہی ہے۔“ ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] ”نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ خود جنا گیا، اس کا کوئی ہمسر ہی نہیں۔“ وہ یکتا ہے۔ «كُفُوًا»، «كَفِيئًا» اور «كِفَاءً» سب ہم معنی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة