مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ الوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ اللَّحْمِ وَالخُبْزِ)
گوشت روٹی کھانے پر وضو کا بیان
حدیث نمبر: 329
329 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا، ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا. فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں، ابی بن کعب اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے، پس ہم نے گوشت روٹی کھائی، پھر میں نے وضو کے لیے پانی منگایا، تو ان دونوں نے کہا: ”تم وضو کیوں کرتے ہو؟“ میں نے کہا: ”اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے“، تو انہوں نے کہا: ”کیا تم پاکیزہ چیزوں سے وضو کرتے ہو؟ یہ چیزیں کھا کر تو اس شخصیت (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر ہے“۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (4/ 30 ح 16479)»
قال الشيخ الألباني: جيد الْإِسْنَاد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن