صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُولَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَسُورَةُ كَذَا وَكَذَا:
باب: جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت (نام کے ساتھ) کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 5040
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ اور عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتوں کو جو شخص رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5040]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5040]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5041
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ؟ قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقُودُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا، وَإِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ:" يَا هِشَامُ، اقْرَأْهَا؟" فَقَرَأَهَا الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ:" اقْرَأْ يَا عُمَرُ"، فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں۔ میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہشام! پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! اب تم پڑھو۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قسم کی قراتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5041]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا۔ میں نے ان کی قرأت و تلاوت غور سے سنی تو (معلوم ہوا کہ) وہ اسے بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ میں نماز ہی میں انہیں پکڑ لیتا، تاہم میں نے انتظار کیا۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال دی اور انہیں کھینچتے ہوئے کہا: ”تجھے یہ سورت کس نے پڑھائی جو میں نے تجھے پڑھتے سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے۔“ میں نے انہیں کہا: ”تم غلط بیانی کرتے ہو۔ اللہ کی قسم! خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورت پڑھائی ہے جو میں نے تجھ سے سنی ہے۔“ چنانچہ میں انہیں کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں نے خود سنا ہے کہ یہ شخص سورۃ الفرقان کو ایسی قرأت میں پڑھ رہا تھا جس کی تعلیم آپ نے مجھے نہیں دی، حالانکہ خود آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ہشام! تم یہ سورت پڑھ کر سناؤ۔“ انہوں نے یہ (سورت) اس طرح سے پڑھی جس طرح میں سن چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے عمر! اب تم پڑھ کر سناؤ۔“ چنانچہ میں نے اسے اس طرح سے پڑھا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے، اس لیے تمہیں جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5041]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5042
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا".
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5042]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری سے سنا جبکہ وہ رات کے وقت مسجد میں قرآن پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے! اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی جو میں فلاں فلاں سورت سے چھوڑ گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5042]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة