صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ هَلْ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لأَحَدٍ:
باب: کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 5113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ مِنَ اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ؟، فَلَمَّا نَزَلَتْ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ سورة الأحزاب آية 51، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ". رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَعَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک عورت اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتے شرماتی نہیں۔ پھر جب آیت «ترجئ من تشاء منهن» ”اے پیغمبر! تو اپنی جس بیوی کو چاہے پیچھے ڈال دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے“ نازل ہوئی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب میں سمجھی اللہ تعالیٰ جلد جلد آپ کی خوشی کو پورا کرتا ہے۔ اس حدیث کو ابوسعید (محمد بن مسلم)، مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کچھ زیادہ مضمون نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5113]
حضرت ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”کیا عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے؟“ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [سورة الأحزاب: 51] ”(اے پیغمبر!) تو اپنی جس بیوی کو چاہے پیچھے ڈال دے۔“ تو میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اب پتا چلا ہے کہ آپ کا رب آپ کی خواہش پوری کرنے میں کس قدر جلدی کرتا ہے۔“ اس حدیث کو ابو سعید مؤدب، محمد بن بشر اور عبدہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، وہ ایک دوسرے سے حدیث میں کچھ اضافہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5113]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة