🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ:
باب: عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لیے پیش کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5120
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، قَالَ أَنَسٌ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَكَ بِي حَاجَةٌ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ: مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَا سَوْأَتَاهْ وَا سَوْأَتَاهْ، قَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولیں کہ وہ کیسی بےحیاء عورت تھی۔ ہائے، بےشرمی! ہائے بےشرمی! انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا وہ تم سے بہتر تھیں، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت تھی، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5120]
حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس ان کی صاحبزادی بھی تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نفس کی پیش کش کی اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے کہا: وہ عورت بہت کم حیا والی تھی، وائے رسوائی! ہائے بے شرمی! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ عورت تجھ سے بہتر تھی کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنی رغبت کا اظہار کیا اور آپ کو اپنی ذات کے متعلق پیش کش کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5120]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5121
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،" أَنَّ امْرَأَةً عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: مَا عِنْدَكَ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ، قَالَ سَهْلٌ: وَمَا لَهُ رِدَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ، قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ أَوْ دُعِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ پھر ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس (مہر کے لیے) کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہمد میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی، اگر یہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے (اور جانے لگے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا، یا انہیں بلایا گیا (راوی کو ان الفاظ میں شک تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں، فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5121]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نفس کی پیش کش کی۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اللہ کے رسول! مجھ سے اس کا نکاح کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس اسے دینے کے لیے کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تلاش کرو، اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۔ چنانچہ وہ گیا اور واپس آ کر عرض کی: اللہ کی قسم! مجھے تو کچھ نہیں ملا اور نہ لوہے کی انگوٹھی ہی دستیاب ہوئی ہے، البتہ یہ میرا تہبند ہے، اس میں سے نصف دے دیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے پاس اوڑھنے کے لیے چادر نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس تہبند کو کیا کرے گی؟ اگر تو نے اسے پہنا تو اس پر کچھ نہیں ہوگا اور اگر اس نے پہنا تو تیرے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا اور تادیر بیٹھا رہا۔ جب وہ اٹھ کر جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر اپنے پاس بلایا یا اسے بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ اس نے چند سورتوں کو شمار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تجھے اس کا مالک بنا دیا اس وجہ سے جو تجھے قرآن یاد ہے، یعنی اسے سورتوں کی تعلیم دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں