🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (مَا حُكْمُ المُقْتَدِي إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ؟)
جب امام قرأت کرے تو مقتدی کے لیے کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 857
857 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام تو اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، پس جب وہ اللہ اکبر کہہ چکے تو پھر تم اللہ اکبر کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ صحیح، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (604) والنسائي (142/2 ح 923) و ابن ماجه (846) و ھذا الحديث منسوخ بدليل فتوي أبي ھريرة بقرأة الفاتحة خلف الإمام في الصلوة الجھرية بعد وفاة رسول الله ﷺ، أخرجه الحميدي (980 بتحقيقي) و أصله عند مسلم (395) و له شاھد صحيح في جزء القراءة للبخاري (بتحقيقي/ نصر الباري:273، 283)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں