🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. بَابُ مَوْعِظَةِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا:
باب: آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5191
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 حَتَّى حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4؟ قَالَ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، هُمَا عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ غَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَصَخِبْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، قَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهَا: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَنَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا أَيْ حَفْصَةُ: أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِي، لَا تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْءٍ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْنَا عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ؟ أَجَاءَ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ: سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، فَقَالَ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ، فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ، فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ، فَاعْتَزَلَ فِيهَا وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ أَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ هَذَا؟ أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِي، هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ، فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: كَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا، قَالَ: إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، فَقَالَ: قَدْ أَذِنَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَرَفَعَ إِلَيَّ بَصَرَهُ، فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمَةً أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّأُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرونَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةَ التَّخَيُّرِ، فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، فَاخْتَرْتُهُ ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ كُلَّهُنَّ، فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی۔ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» الخ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالی مدینہ میں رہتے تھے۔ ہم نے (عوالی سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسے کرتے۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ تشریف لائے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں اور بعض تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا کہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً وہ نامراد ہو گئی۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے لیے) روانہ ہوا پھر میں حفصہ کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی (ایسا ہو جاتا ہے) میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی۔ کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی۔ خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیا کرو نہ کسی معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کرو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا کرو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ ملک غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے۔ وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ گھر میں ہیں۔ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی، کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی۔ مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہو گا پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے (اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا) میں نے فجر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا اب روتی کیا ہو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ اس کے گرد کچھ صحابہ کرام موجود تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا۔ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو۔ غلام اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو۔ اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے۔ اس پر کوئی بستر نہیں تھا۔ بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے۔ جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں۔ میں (خوشی کی وجہ سے) کہہ اٹھا۔ اللہ اکبر۔ پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز ہے، دھوکا میں مت رہنا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا پھر نظر اٹھا کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی۔ سوا تین چمڑوں کے (جو وہاں موجود تھے) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے۔ فارس و روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئیے (کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز عائشہ سے کہہ دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بہت رنج ہوا (اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا) پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «تخير» نازل کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے (اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا) تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پسند کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5191]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق سوال کروں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم دونوں (بیویاں) اللہ کے حضور توبہ کرتی ہو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل راہ راست سے ہٹ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ نے حج کیا اور میں بھی آپ کے ہمراہ حج کے لیے گیا۔ چنانچہ جب وہ ایک دفعہ راستے سے ایک طرف ہوئے تو میں بھی پانی کا ایک برتن لے کر ان کے ہمراہ راستے سے الگ ہو گیا۔ پھر جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان سے عرض کی: اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل راہ راست سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے، وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر آپ نے تفصیل سے یہ واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اور میرے انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے، ہم باری باری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے تھے؛ ایک دن وہ جاتا اور دوسرے دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ جب میں آتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اسے بتاتا اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر رعب و دبدبہ رکھتے تھے لیکن جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو دیکھا کہ انصار کی عورتیں ان پر غالب رہتی ہیں، چنانچہ ہماری عورتیں انصاری عورتوں کے آداب سیکھنے لگیں۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے مجھے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے جواب دینے پر جب ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا: میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگا ہے؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں حتیٰ کہ بعض تو آپ سے دن سے رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں یہ بات سن کر کانپ اٹھا اور کہا: ان میں سے جس نے بھی یہ رویہ اختیار کیا ہے وہ یقیناً بڑے خسارے میں ہے۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ پھر میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گیا اور ان سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کچھ بیویاں دن سے رات تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض رکھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: پھر تم نے خود کو خسارے میں ڈال لیا ہے اور سراسر نقصان میں رکھا ہے۔ کیا تمہیں اس امر کا اندیشہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالٰی ناراض ہو جائے گا، پھر تم تباہ ہو جاؤ گی۔ خبردار! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مطالبات نہ کیا کرو اور نہ کسی معاملے میں آپ کو جواب ہی دیا کرو اور نہ آپ سے علیحدہ ہی رہو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، اس کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ہمیں معلوم ہوا تھا کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کی نعل بندی کر رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک دن میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن دربارِ رسالت گیا ہوا تھا، وہ رات گئے واپس آیا تو اس نے میرا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور کہا: کیا عمر گھر میں موجود ہیں؟ میں گھبراہٹ کے عالم میں باہر نکلا تو اس نے کہا: آج تو بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا: کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ معاملہ اس سے بھی زیادہ ہولناک اور خطرناک ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: حفصہ تو نقصان میں پڑ گئی اور نامراد ہو گئی، میں تو پہلے ہی خیال کیا کرتا تھا کہ عنقریب ایسا ہو جائے گا۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہن لیے اور نمازِ فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر تنہائی اختیار کر لی۔ میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہے، میں نے کہا: اب روتی کیا ہو؟ میں نے تمہیں پہلے متنبہ نہیں کیا تھا؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت بالا خانہ میں تشریف رکھے ہوئے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا، وہاں منبر کے ارد گرد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں تھوڑی دیر تک ان کے ہمراہ بیٹھا رہا، پھر جب پریشانی کا مجھ پر غلبہ ہوا تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا: عمر کے لیے اندر جانے کی اجازت لو۔ غلام اندر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی اور تمہارا ذکر بھی کیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پھر واپس ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا جو منبر کے ارد گرد تھے۔ پھر جب پریشانی نے زور مارا تو دوبارہ آ کر غلام سے کہا: عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت لو۔ اس غلام نے واپس آ کر دوبارہ کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرا غم پھر غالب آیا تو میں نے پھر غلام کے پاس آ کر اس سے کہا: عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسیوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسم مبارک اور چٹائی کے درمیان کوئی بچھونا نہ تھا، بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے تھے اور جس تکیے پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور کھڑے کھڑے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ایک نظر اٹھا کر فرمایا: نہیں۔ میں نے (خوشی کی وجہ سے) نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ کو خوش کرنے کے لیے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم قریش کے لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے تھے، پھر جب ہم مدینہ طیبہ آئے۔ (یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے)۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میں ایک دفعہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تھا اور اس سے کہا تھا: اپنی اس سوکن کی وجہ سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کیونکہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت اور آپ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری ہے۔ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ میری یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیے۔ میں نے جب آپ کا تبسم دیکھا تو بیٹھ گیا، پھر میں نے نظر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا، اللہ کی قسم! میں نے وہاں تین کچی کھالوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہ دیکھی۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کریں اللہ آپ کی امت پر وسعت کرے، فارس اور روم کے لوگوں کو وسعت اور فراخی دی گئی ہے اور انہیں دنیا کا وافر حصہ دیا گیا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو بھلائی ملنے والی تھی وہ سب اس دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس دن تک علیحدگی اختیار کیے رکھی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز افشا کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں مہینہ بھر اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالٰی نے آپ پر عتاب فرمایا تو آپ کو اس کا بہت رنج ہوا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور بیویوں کے گھروں میں جانے کی ابتدا ان سے کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ ہمارے گھروں میں مہینہ بھر تشریف نہیں لائیں گے، آج آپ نے انتیسویں رات کی صبح کی ہے، میں نے تو گن گن کر یہ دن گزارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ واقعی وہ مہینہ انتیس دن ہی کا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پھر اللہ تعالٰی نے آیاتِ تخییر نازل فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ ہی کا انتخاب کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا تو سب نے وہی کچھ کیا جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں