صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ هَلْ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ:
باب: ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا۔
حدیث نمبر: 5250
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ" عَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (ان کے والد) ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر غصہ ہوئے اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکے لگانے لگے لیکن میں حرکت اس وجہ سے نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5250]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور غصے کی وجہ سے میری کمر میں ایک ہاتھ سے کونچا مارنے لگے۔ میں اس لیے حرکت نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5250]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة