🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (لاَ تُؤْذِي الْمَرِيضَ بِالصُّوْتِ الْعَالِي)
اونچی آواز سے مریض کو تکلیف نہ پہنچائی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1589
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ تَخْفِيفُ الْجُلُوسِ وَقِلَّةُ الصَّخَبِ فِي الْعِيَادَةِ عِنْدَ الْمَرِيضِ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَ لَغَطُهُمْ وَاخْتِلَافُهُمْ: «قُومُوا عَنِّي» رَوَاهُ رزين
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مریض کی عیادت کرتے وقت اس کے پاس مختصر وقت کے لیے بیٹھنا اور شور کم کرنا سنت ہے۔ انہوں نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ان کا شور اور اختلاف زیادہ ہوا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس سے چلے جاؤ۔ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1589]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لا أصل له، رواه رزين (لم أجده)
٭ و في الباب حديث منقطع عن علي رضي الله عنه، عند البزار (کشف الأستار: 777) و سنده ضعيف.»
قال الشيخ زبير على زئي:لا أصل له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں