🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (بُكَاءُ رَسُولِ اللهِ ﷺ عَلَى وَفَاةِ أَوْلَادِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی وفات پر رونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1747
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل میں سے کوئی شخص فوت ہو گیا، تو عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں، جبکہ عمر رضی اللہ عنہ انہیں روکنے اور دور ہٹانے کے لیے کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر انہیں چھوڑ دو، کیونکہ آنکھ اشکبار ہے اور دل غمناک ہے اور ابھی صدمہ تازہ ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (444/2) و النسائي (19/4 ح 1860)
٭ سلمة بن الأزرق: مستور، لم أجد من و ثقه غير ابن حبان.»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں