🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (أَمْرُ أَدَاءِ الزَّكَاةِ عَلَى الزِّيُونِ)
زیورات پر زکوٰۃ دینے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
1809 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي أَيْدِيهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ  ، فَقَالَ لَهُمَا:"تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟"قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟"قَالَتَا: لَا، قَالَ:"فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَى الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ. وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم اس (سونے) کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنا دے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس سونے کی زکاۃ ادا کرو۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: مثنی بن صباح نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ مثنی بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف ہیں، اس بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (637)
٭ وله طريق آخر عند أبي داود (1563) وغيره وسنده حسن.»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں