مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنَعُ اللَّزِقِ وَالْمُطَالَبَةِ بِالإِصْرَارِ)
لپٹ چمٹ کر مانگنا منع ہے
حدیث نمبر: 1849
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا» . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عطاء بن یسار ؒ بنو اسد قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اوقیہ یا اس کے مساوی چاندی کی ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرتا ہے تو وہ چمٹ کر سوال کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے۔ “ صحیح، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (999/2 ح 1949) و أبو داود (1627) والنسائي (98/5. 99 ح 2597)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح