مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَظِيفَةُ عُمَّالِ الزَّكَاةِ)
عمال زکٰوۃ کے لیے وظیفہ
حدیث نمبر: 1854
1854 - وَعَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا، وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ، أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ، فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن الساعدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات وصول کرنے پر مامور فرمایا، جب میں اس (کام) سے فارغ ہوا اور وہ ان کے سپرد کر دیے تو انہوں نے تنخواہ لینے کے لیے مجھے حکم فرمایا، تو میں نے عرض کیا: میں نے تو محض اللہ کی خاطر یہ کام کیا تھا اور میرا اجر اللہ کے ذمے ہے، انہوں نے فرمایا: جو دیا جائے اسے قبول کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں یہ کام کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے تنخواہ پیش کی تو میں نے بھی تمہاری طرح ہی عرض کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا: ”جب بن مانگے کوئی چیز تمہیں دی جائے تو اسے کھاؤ اور صدقہ کرو۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1647) [والبخاري (7163 مطولاً) و مسلم (1045/112) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح