🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (مَنْعُ السُّؤَالِ مِنْ غَيْرِ اللهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ مانگا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
1855 - وَعَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ يَوْمَ عَرَفَةَ رَجُلًا يَسْأَلُ النَّاسَ، فَقَالَ: أَفِي هَذَا الْيَوْمِ وَفِي هَذَا الْمَكَانِ تَسْأَلُ مِنْ غَيْرِ اللَّهِ؟  فَخَفَقَهُ بِالدِّرَّةِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفہ کے روز ایک آدمی کو لوگوں سے سوال کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا: کیا تم اس روز اس جگہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے مانگ رہے ہو؟ انہوں نے دُرّے کے ساتھ اس کی پٹائی کی۔ «لَا أَصْلَ لَهُ» ”اس کی کوئی اصل نہیں ہے“، «رَوَاهُ رَزِيْنٌ» ”اسے رزین نے روایت کیا ہے“ «(لَمْ أَجِدْهُ)» ”(میں نے اسے نہیں پایا)“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لا أصل له، رواه رزين (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لا أصل له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں