مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْقِيءُ الْعَمْدِيُّ يُبْطِلُ الصِّيَامَ وَيَجِبُ الْقَضَاءُ)
قصداً قے کر کے روزہ توڑنے سے قضا ہے
حدیث نمبر: 2008
2008 - وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاءَ فَأَفْطَرَ ، قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: صَدَقَ، وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
معدان بن طلحہ سے روایت ہے کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا“، راوی بیان کرتے ہیں، میں دمشق کی مسجد میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا“، انہوں نے کہا: انہوں (یعنی ابودرداء رضی اللہ عنہ) نے ٹھیک کہا ہے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی انڈیلا تھا۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے ابوداؤد، ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2381) و الترمذي (87)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن