مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (صَوْمُ يَوْمِ عَرْفَةَ)
یوم عرفہ کا روزہ
حدیث نمبر: 2042
2042 - وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا تو کچھ نے کہا: آپ روزے سے ہیں، اور کچھ نے کہا کہ آپ روزے سے نہیں ہیں، میں نے دودھ کا پیالہ آپ کی خدمت میں بھیجا، آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے، تو آپ نے اسے نوش فرمایا۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1988) و مسلم (110 / 1123)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه