صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ:
باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5513
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے، کہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے یہاں گیا، انہوں نے وہاں چند لڑکوں کو یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5513]
ہشام بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حکم بن ایوب کے پاس گیا تو وہاں چند لڑکوں کو دیکھا جو مرغی کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5513]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي يَحْيَى رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ حَتَّى حَلَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا، وَبِالْغُلَامِ مَعَهُ، فَقَالَ: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ عَنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ لِلْقَتْلِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِلْقَتْلِ".
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن سعید بن عمرو نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ وہ یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے۔ یحییٰ کی اولاد میں ایک بچہ ایک مرغی باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول لیا پھر مرغی کو اور بچے کو اپنے ساتھ لائے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچہ کو منع کر دو کہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے کسی جنگلی جانور یا کسی بھی جانور کو باندھ کر جان سے مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5514]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ یحییٰ بن سعید کے پاس گئے جبکہ یحییٰ کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اپنے تیر سے نشانہ بازی کر رہا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول دیا، پھر اپنے ساتھ مرغی اور لڑکا دونوں کو لائے اور یحییٰ سے کہا: ”اپنے لڑکے کو منع کرو وہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی جانور وغیرہ کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5514]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5515
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا". تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ، عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا (یہ کہا کہ) چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یہ کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5515]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا۔ وہ چند ایک نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے، جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو آتے دیکھا تو بھاگ نکلے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔“ اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے، منہال نے سعید سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو حیوانوں کا مثلہ کرے“، عدی نے سعید سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5515M
حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ" لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ". وَقَالَ عَدِيٌّ: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے منہال نے بیان کیا، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت بھیجی ہے جو کسی زندہ جانور کے پاؤں یا دوسرے ٹکڑے کاٹ ڈالے۔ اور عدی نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5515M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5516
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہزنی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5516]
حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہزنی کرنے (ڈاکا مارنے) اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5516]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة